پاکستان میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان ٹکراؤ
تمام آثار یہی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ایک بار پھر حکومت اور عدلیہ کے درمیان شدید قسم کا ٹکراؤ پیدا ہونے والا ہے۔ 2007 میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے کسی فیصلے سے ناراض ہوئے تھے تو انہوں نے جسٹس چودھری کے خلاف محاذ کھول دیا تھا اور انہیں برخاست کردیا تھا جس کے بعد پاکستان کے وکلاء ان کی حمایت میں سڑکوں پر اتر آئے تھے اور اس کے بعد وکیلوں کی اس مزاحمتی تحریک نے عوامی، احتجاج اور بیزاری کی شکل اختیار کرلی تھی۔ بالآخر یہی تحریک جنرل مشرف کے زوال کا باعث بھی بنی۔ اب اس کے ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ بعد ایک بار پھر حکومت اور عدلیہ کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے لیکن اس بار معاملہ کچھ زیادہ ہی نازک رخ اختیار کرسکتا ہے۔ اس وقت براہ راست فوج حکومت کررہی تھی لیکن اس بار فوج پردے کے پیچھے سے کام کررہی ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک سینئر اور دیانت دار جج جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدر پاکستان عارف علوی نے سپریم جوڈیشیل کونسل میں ایک ریفرینس داخل کیا ہے جس کے تحت برطانیہ میں جسٹس فائز عیسیٰ کی املاک اور اثاثوں کی جانچ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ صورت حال کیسے پیدا ہوئی، اس کی اصل کہانی یہ ہے کہ جسٹس عیسیٰ کی قیادت میں سپریم کورٹ کی دو رُکنی بنچ نے پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد کے قریب واقع فیض آباد میں 2017 میں ایک دہشت گرد گروپ کے دھرنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کو ناجائز اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فوج اور ایجنسیوں پر براہ راست الزام لگایا تھا کہ ان کے افسران نے اس وقت کی حکومت کو پریشان اور ڈانواڈول کرنے کے لئے تحریک لبیک پاکستان نام کی انتہاپسند تنظیم کی حوصلہ افزائی کی تھی اور اس کے کارکنوں میں پیسے تقسیم کئے تھے۔ جسٹس عیسیٰ نے بطور خاص فوج کے تینوں بازوؤں کے سربراہوں کو یہ ہدایت بھی دی کہ ان کے ماتحت کام کرنے والے افسران یا اہلکار جو ان حرکتوں میں ملوث تھے، ان کے خلاف وہ سخت کارروائی کریں کیونکہ انہوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کی تھی جو سراسر غیر آئینی بات تھی۔ پاکستان میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ فیصلہ سن کر فوجی ہیڈکوارٹر کو طیش آگیا اور اس نے جسٹس عیسیٰ کو سبق سکھانے کا تہیہ کرلیا۔ جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرینس کو صدر پاکستان یعنی عمران حکومت کی جانب سے داخل کیا گیا ہے لیکن یہ بات تو دن کے اجالے کی طرح روشن ہے کہ اس کے پیچھے پاکستانی فوج کا دماغ اور حکمت عملی کام کررہی ہے۔ جسٹس عیسیٰ پر الزام لگایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ان کے بچوں اور بیوی کے نام پر جو املاک ہیں، ان کو انہوں نے چھپایا ہے جبکہ جسٹس عیسیٰ کا کہنا یہ ہے کہ ان املاک سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جن کے نام پر پراپرٹی ہے ان میں سے کوئی بھی ان پر ڈیپینڈنٹ نہیں ہے۔ انہوں نے صدر کو خط لکھ کر یہ بھی بتایا ہے کہ ریفرینس داخل کرنے سے قبل میڈیا میں اس کا لیک کیا جانا بھی حکومت کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری طرف میڈیا پر یہ پابندی بھی عائد کردی گئی ہے کہ اس ریفرینس کے حوالے سے میڈیا میں کوئی بحث نہ کی جائے۔
بہرحال یہ تمام باتیں حکومت کی غلط منشا اور اس کی بدنیتی کو ظاہر کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ کی بار کونسل اسے انتقامی کارروائی بتارہی ہے۔ پاکستان بار کونسل نے زبردست احتجاج کیا ہے اور اپنی ایک قرارداد میں سپریم جوڈیشیل کونسل سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ آئین کی اسپرٹ اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اس ریفرینس کو رد کردے۔ بار کونسل نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ فوج اپنی تنقید برداشت نہیں کرتی جس کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف اس نے محاذ کھول دیا ہے جن کی دیانت داری اور ایمانداری کی قسمیں کھائی جاتی ہیں۔ فوج نے عمران حکومت کو اس کام کے لئے استعمال تو کرلیا لیکن اگر یہ ٹکراؤ شدید رخ اختیار کرتا ہے تو اس کی قیمت بہرحال وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کو چکانی پڑے گی۔
Comments
Post a Comment